Posts

جنریشن زی سے مسائل تک

Image
  (محمد عارف خان کھاریاں ) دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو چیزیں کل عام تھیں آج پرانی لگتی ہیں۔ اسی بدلی ہوئی دنیا میں ایک نئی نسل جوان ہو رہی ہے جسے جنریشن زی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مسائل بھی نئے ہیں اور سوال بھی مختلف۔جنریشن زی کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے۔ نوکریاں کم، مہنگائی زیادہ اور مستقبل غیر یقینی لگتا ہے۔ بہت سے نوجوان پڑھ لکھ کر بھی اچھی نوکری نہیں پا رہے۔ گھر خریدنا، بچت کرنا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی نے بھی خوف پیدا کیا ہے کہ کہیں مشینیں انسانوں کی جگہ نہ لے لیں۔ آج کے نوجوان زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ امتحان، نوکری، پیسہ، مستقبل، سب باتیں ایک ساتھ ذہن پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیاب زندگیاں دیکھ کر خود کو کم تر سمجھنے کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے نوجوان اب یہ کہتے ہیں کہ کام کے ساتھ آرام بھی ضروری ہے۔ وہ مسلسل دوڑ بھاگ کے بجائے ذہنی سکون چاہتے ہیں۔ جنریشن زی کو ماحول کی فکر بھی ہے۔ موسم کی شدت، آلودگی،...

جنریشن زی، نئے عہد کی تمہید (محمد عارف خان)

Image
  جنریشن زی، نئے عہد کی تمہید (محمد عارف خان کھاریاں) دنیا کی تاریخ میں نسلیں آتی رہی ہیں، ہر ایک اپنے عہد کی آواز بن کر۔ آدمِ اوّل کی روایت سے لے کر ملینیئلز کی جدوجہد تک، ہر نسل نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا اور اپنی پہچان بنائی۔ مگر جنریشن زی—وہ نوجوان جو 1997 سے 2012 کے درمیان دنیا میں آئے—یہ محض ایک اور نسل نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی تمہید ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو ٹیکنالوجی کی گود میں پلی۔ اسمارٹ فون ان کے لیے ایجاد نہیں بلکہ فطری توسیع ہے۔ انٹرنیٹ سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ یہ صرف ڈیجیٹل دور کی پیداوار نہیں بلکہ اس کی معمار ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں حقیقت اور مجاز کے درمیان سرحدیں مٹ رہی ہیں۔ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے، روایت کو پرکھتی ہے اور ایک زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے خواب دیکھتی ہے۔ عالمی منظرنامے پر اس نسل کی خصوصیات غیر معمولی طور پر واضح ہیں۔ حالیہ عالمی مطالعات کے مطابق جنریشن زی کے نزدیک کامیابی کا مطلب محض کارپوریٹ سیڑھیاں چڑھنا نہیں بلکہ ذہنی سکون، ذاتی شناخت اور مقصدیت ہے۔ یہ حقیقت پسند نسل ہے—اضطراب کا انکار نہیں کرتی بلکہ اسے قبول کر کے آگے...

جین زی کے ساتھ ایک مشترکہ سفر کا روڈمیپ (محمدعارف خان)

Image
Muhammad Arif Khan (kharian) عالمی افق پر نسلیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ سی نظر آتی ہیں ہر ایک اپنے دور کے درد اور خوابوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی۔ جین زی جو ڈیجیٹل انقلاب کی گود میں پل کر بڑھی ہے اس کی روح میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار نبض دوڑتی ہے جہاں ماحولیاتی تباہی ایک وجودی خوف ہے، ذہنی سکون ایک دور کی چیز اور معاشی استحکام ایک خوابِ شب۔ دوسری جانب قریب کی نسلیں جو روایات کی چادر اوڑھے، معاشی جدوجہد کی آگ میں تپ کر نکلی ہیں زندگی کی تلخ اور میٹھی یادوں کے ذخیرے لیے بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھیں جین زی کی بے باک اور تیز سوچ کو دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں اور جین زی سابقین کی خاموشی اور صبر کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ یہ خلیج نہ صرف دل کی دوری ہے بلکہ معاشرے کی ترقی میں ایک پوشیدہ رکاوٹ بھی ہے مگر اس کا علاج ممکن ہے۔ ایک ایسا راستہ جو دونوں کو ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے دے، ایک ہی کشتی میں بٹھائے اور ایک مشترکہ منزل کی طرف لے جائے۔ پہلا قدم ادراک کا ہے اور ادراک سننے سے جنم لیتا ہے۔ نسل سابق کو جین زی کی دنیا میں قدم رکھنا چاہیے—وہ دنیا جہاں سوشل میڈیا کی لہریں دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیتی ہ...

روایت شکن بیٹی

Image
  راوش غزالہ صدیق وہ بیٹی جس نے روایتوں کے بوجھ کو توڑ کر اپنے نصیب کا خود فیصلہ لکھا (Faisal Shiekh) پنجاب کی دھرتی ہمیشہ بہادری اور غیرت کی علامت رہی ہے مگر کبھی کبھی اسی مٹی سے ایسی صدا اٹھتی ہے جو روایتوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ ضلع اٹک کی گلیوں میں ایک دن ایک بچی پیدا ہوئی، دائی نے خوشخبری سنائی مگر گھر کےچہروں پر خوشی کے چراغ نہ جلے، بیٹی تھی اس لئےسناٹا تھا۔ باپ نے منہ پھیر لیا، خاندان نے منہ موڑ لیا اور یوں نوزائیدہ راوش عارف اور اس کی ماں غزالہ صدیق کو گھر کی دہلیز سے باہر کر دیا گیا۔ غزالہ صدیق… وہ ماں، جس کے پاس صرف دو جوڑے، ایک کمزور جسم اور بازوؤں میں لپٹی ایک بیٹی تھی۔ مگر یہی عورت اپنی بیٹی کے لئے ڈھال، چراغ اور راستہ بنی۔ دن رات کام کیا، تدریس سے لے کر ٹیوشن تک ہر ذمہ داری نبھائی اور معاشرے کو دکھا دیا کہ اصل طاقت کا نام ماں ہے، غیرت کا نام ماں ہے اور عزت کا نام ماں ہے۔ آج غزالہ صدیق ایڈووکیٹ اپنے کردار، خدمت، علم اور وقار کی وجہ سے اٹک کی دھرتی پر کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ بیٹی کو بھی نام دیا اور مقام بھی۔ وقت گزرتا گیا اور راوش غزالہ نے تعلیم کے ساتھ ایک فیصلہ کیا—اس م...

جوتی چور کا شور

Image
پاکستانی معاشرہ شاید دنیا کے ان چند معاشروں میں سے ہے جہاں چھوٹی باتیں پہاڑ اور بڑے پہاڑ ریت کے ذرے نظر آتے ہیں۔ یہاں کرکٹ کے میدان میں ایک کیچ چھوٹ جائے تو دلوں کی دنیا لرز جاتی ہے۔ ایک اوور خراب ہو تو جیسے پوری قوم کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو جاتی ہیں۔ کبھی ہاکی کے کھلاڑی کی لغزش پر بحث ہوتی ہے کبھی فٹبال کے گول پر قومی غیرت کو مجروح سمجھا جاتا ہے۔ لوگ گھنٹوں اس ایک لمحے کی ناکامی پر تبصرے کرتے رہتے ہیں جیسے یہی وہ واقعہ ہو جس نے قوم کا مقدر بدل دینا تھا۔ گلی کے موڑ پر اگر کسی بدقسمت جوتی چور کو پکڑ لیا جائے تو محلے کی عدالت فوراً لگ جاتی ہے۔ کچھ لمحے پہلے تک خاموش گلی دھاڑتی ہوئی آوازوں سے بھر جاتی ہے۔ ہاتھ، الفاظ اور موبائل کیمرے چلتے ہیں۔ اس چھوٹی سی واردات کو یوں نمٹایا جاتا ہے جیسے ملک میں پہلی بار انصاف نے اپنی آنکھیں کھولی ہو۔ کچھ دیر بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہی روزمرہ کا معمول، وہی بے خبری، وہی خاموشی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی معاشرے میں وہ بڑے واقعات جن کی لپیٹ میں پوری قوم آتی ہے جن کے اثرات نسلوں تک پھیلتے ہیں ان پر وہ ہنگامہ نہیں اٹھتا۔ قومی خزانے کے فیصلوں پر...
Image
  Endless Chain of American Military Interventions By Muhammad Arif Khan, Kharian Since the end of World War II, the United States has exercised its global power through direct and indirect military interventions in various countries. These actions have been justified under different pretexts such as curbing the spread of communism, combating terrorism, safeguarding democratic values, upholding human rights, and protecting national interests. These interventions have significantly impacted various regions around the world and had far-reaching consequences for international relations. The early post-World War II era was defined by the Cold War—a period marked by intense ideological conflict between the United States and the Soviet Union. During this time, the U.S. intervened globally to halt the spread of communism. From 1950 to 1953, following North Korea’s invasion of South Korea, the U.S., under the United Nations' banner, deployed troops in support of South Korea. This turned ...