Posts

Showing posts from December, 2025

روایت شکن بیٹی

Image
  راوش غزالہ صدیق وہ بیٹی جس نے روایتوں کے بوجھ کو توڑ کر اپنے نصیب کا خود فیصلہ لکھا (Faisal Shiekh) پنجاب کی دھرتی ہمیشہ بہادری اور غیرت کی علامت رہی ہے مگر کبھی کبھی اسی مٹی سے ایسی صدا اٹھتی ہے جو روایتوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ ضلع اٹک کی گلیوں میں ایک دن ایک بچی پیدا ہوئی، دائی نے خوشخبری سنائی مگر گھر کےچہروں پر خوشی کے چراغ نہ جلے، بیٹی تھی اس لئےسناٹا تھا۔ باپ نے منہ پھیر لیا، خاندان نے منہ موڑ لیا اور یوں نوزائیدہ راوش عارف اور اس کی ماں غزالہ صدیق کو گھر کی دہلیز سے باہر کر دیا گیا۔ غزالہ صدیق… وہ ماں، جس کے پاس صرف دو جوڑے، ایک کمزور جسم اور بازوؤں میں لپٹی ایک بیٹی تھی۔ مگر یہی عورت اپنی بیٹی کے لئے ڈھال، چراغ اور راستہ بنی۔ دن رات کام کیا، تدریس سے لے کر ٹیوشن تک ہر ذمہ داری نبھائی اور معاشرے کو دکھا دیا کہ اصل طاقت کا نام ماں ہے، غیرت کا نام ماں ہے اور عزت کا نام ماں ہے۔ آج غزالہ صدیق ایڈووکیٹ اپنے کردار، خدمت، علم اور وقار کی وجہ سے اٹک کی دھرتی پر کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ بیٹی کو بھی نام دیا اور مقام بھی۔ وقت گزرتا گیا اور راوش غزالہ نے تعلیم کے ساتھ ایک فیصلہ کیا—اس م...

جوتی چور کا شور

Image
پاکستانی معاشرہ شاید دنیا کے ان چند معاشروں میں سے ہے جہاں چھوٹی باتیں پہاڑ اور بڑے پہاڑ ریت کے ذرے نظر آتے ہیں۔ یہاں کرکٹ کے میدان میں ایک کیچ چھوٹ جائے تو دلوں کی دنیا لرز جاتی ہے۔ ایک اوور خراب ہو تو جیسے پوری قوم کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو جاتی ہیں۔ کبھی ہاکی کے کھلاڑی کی لغزش پر بحث ہوتی ہے کبھی فٹبال کے گول پر قومی غیرت کو مجروح سمجھا جاتا ہے۔ لوگ گھنٹوں اس ایک لمحے کی ناکامی پر تبصرے کرتے رہتے ہیں جیسے یہی وہ واقعہ ہو جس نے قوم کا مقدر بدل دینا تھا۔ گلی کے موڑ پر اگر کسی بدقسمت جوتی چور کو پکڑ لیا جائے تو محلے کی عدالت فوراً لگ جاتی ہے۔ کچھ لمحے پہلے تک خاموش گلی دھاڑتی ہوئی آوازوں سے بھر جاتی ہے۔ ہاتھ، الفاظ اور موبائل کیمرے چلتے ہیں۔ اس چھوٹی سی واردات کو یوں نمٹایا جاتا ہے جیسے ملک میں پہلی بار انصاف نے اپنی آنکھیں کھولی ہو۔ کچھ دیر بعد لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور پھر وہی روزمرہ کا معمول، وہی بے خبری، وہی خاموشی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی معاشرے میں وہ بڑے واقعات جن کی لپیٹ میں پوری قوم آتی ہے جن کے اثرات نسلوں تک پھیلتے ہیں ان پر وہ ہنگامہ نہیں اٹھتا۔ قومی خزانے کے فیصلوں پر...